World News – Mobile Snatcher Got Free After 19 Years

0
238
Mobile Snatcher

رچرڈ اینتھنی کے ہمشکل نے خاتون سے پرس چھینا ، پولیس نے چہروں کی مماثلت سے دھوکہ کھا کر رچرڈ کو حراست میں لے لیا ، حقیقت کھلنے پر 19 سال بعد رہا کر دیا

لندن (دنیا نیوز ) ہمارے ہاں بسا اوقات مجرم سالہا سال جیل میں قید رہتے ہیں لیکن ان کی بے گناہی یا گناہ ثابت نہیں ہوتا ۔بسا اوقات کئی سالوںبعد بے گناہ ثابت ہونے پر ان کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی واقعہ لندن میں پیش آیا ۔رچرڈ اینتھنی نامی شخص ایک عورت سے پرس چھیننے کے الزام میں 1999ء میں گرفتار ہوا ۔ اس وقت اس کی عمر صرف 19 سال تھی ۔ اب پتہ چلا ہے کہ پرس چھیننے والا اس کا ہم شکل تھا ، جو چند ہفتے قبل گرفتار ہوگیا اور بے گناہ رچرڈ اینتھنی کو 19 سال بعد رہائی مل گئی ہے ۔ امریکی جریدے کے مطابق اینتھنی نے پولیس کے سامنے اپنی بے گناہی کا رونا رویا ۔

World News - Meeting with His Family
World News – Meeting with His Family

اس نے بتایا کہ وقوعہ کے وقت وہ اپنے خاندان کے ساتھ تھا ، پولیس نے اس کی اور اس کے اہل خانہ کی گواہی مسترد کر دی تھی ۔ پولیس کے نزدیک مظلوم کی گواہی ملزم کی گواہی سے زیادہ اہم ہوتی ہے اور اس کی ایک نہ چلی ۔ اسے ایک عورت کی گواہی پر جیل بھیج دیا گیا جس کے بعد اس نے یونیورسٹی آف کینساس کے بے گناہوں کی رہائی کے لئے کام کرنے والے ادارے سے رابطہ کیا ۔ کینساس کے سماجی ماہرین نے اس کا مسئلہ سنا اور انہوں نے ریسرچ کی تو پتہ چلا اس کی شکل رک نامی شخص سے بہت ملتی ہے ۔ اس کے نام کے پہلے حروف بھی ملزم کے نام سے ملتے جلتے ہیں ۔ وکیل ایلیف گرے بھی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اصل مجرم   رکی آموس   ہے ۔ رچرڈ بے چارہ ہم شکل ہونے کی سزا بھگت رہا ہے جبکہ رکی دندناتا پھر رہا ہے ۔ پولیس نے تفتیش کے دوران شکلوں کی اس مشابہت کو نظر اندازکیا ۔

World News - Meeting with His Family
World News – Meeting with His Family

مگر بے گناہوں کی رہائی پر کام کرنے والی این جی او کے ماہرین ڈیٹا چیک کرنے کے بعد اصل مجرم تک پہنچ گئے ۔ ماہرین کے مطابق دونوں کا ہیئر سٹائل ، تھوڑی کے کٹس اور قد کاٹھ ،ایک جیسا ہے ۔ 200 پائونڈ اور 6 فٹ قد ، ایک انچ کا بھی فرق نہیں ۔ دونوں کی عمریں ایک جیسی ۔ وقوعہ پر آموس موجود تھا ، اس کی رہائش بھی قریب ہی تھی ۔ واردات کے بعد وہ دوسرے گھر میں منتقل ہو گیا تھا ۔ اسی گھر کو کرائے پر لینے والوں نے بتایا کہ یہاں رکی نامی شخص نے راہزنی کی تھی ، وہ کسی عورت سے کچھ چھین کر فرار ہوگیا تھا ۔ یہ بات پولیس کے علم میں لائی گئی جس پر دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا ۔ عدالت میں رکی نے صحت جرم سے صاف انکار کر دیا ۔ بعض افسر خود بھی رکی آموز کو مجرم ٹھہرانے سے گریز کر رہے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ رچرڈ کو مجرم ٹھہرانے والی جیوری بے وقوف نہ تھی ۔

World News - Meeting with His Family
World News – Meeting with His Family

فیصلہ سنانے والے جج معتبر تھے ، ایسی کوئی نئی شہادت نہیں ملی جو اس فیصلے کو بدل سکے ۔ تاہم مظلوم عورت نے کہا کہ اس نے حملہ آور کی شکل غور سے نہیں دیکھی ، اس چھینا جھپٹی میں وہ اس کی رنگت کو دیکھ سکی ۔ شناخت کے وقت بھی اس نے رنگت کو اہمیت دی ۔ دونوں کی تصاویر دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی ۔ بالآخر اس نے رکی آموس کی شناخت کر لی اور یہ مقدمہ دوبارہ چلایا گیا ۔ عورت نے گواہی دی کہ اس کا مجرم رچرڈ نہیں بلکہ رکی ہی ہے چنانچہ ڈسٹرکٹ جج نے نئی شہادتوں کے پیش نظر اس کی رہائی کا فیصلہ سنا دیا ۔ 19 سالہ قید کاٹنے کے بعد گزشتہ دنوں رچرڈ رہا ہو کر اپنے گھر پہنچا ۔ اپنی دادی اور 19 سالہ بیٹی سے مل کر خوب رویا ۔ جیل جاتے وقت اس کی بیٹی شیرخوارتھی ، اب وہ 19 سالہ جوان لڑکی ہے ۔ یہ دنیا کتنی ظالم ہے ، ایک بے گناہ کو 19 سال کے لیے جیل میں ڈال دیتی ہے اور وہ بھی ایک سیل فون کی چوری کے الزام میں ۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here