Sports – سیمی فائنل میچ:بیٹنگ میں تبدیلیوں کی ضرورت

0
198
2017_ICC_Champions_Trophy

Semi Final

آئوٹ آف فارم بابر اعظم کی جگہ حارث سہیل کو ٹیم میں شامل کیا جائے تو صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے :ماہرین

Image result for Shoaib malik, babar azam hafeez
لاہور  سیمی فائنل میں پہنچنے کی خوشی اپنی جگہ لیکن ایمانداری سے بتائیں کیا ہماری بیٹنگ عالمی معیار کی ہے کہ کوئی بڑا ایونٹ جیت سکے ۔ جس ٹیم کے تین مرکزی بیٹسمین (بابراعظم، محمد حفیظ اور شعیب ملک) سکور نہ کر رہے ہوں وہاں ٹیم کو کوئی معجزہ ہی جتوا سکتا ہے ورنہ ہماری بیٹنگ ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے ۔

جس طرح بھارت اور پھر سری لنکا کیخلاف ہوا کہ مڈل آرڈر بلے باز کھیل میں کہیں نظر ہی نہیں آئے ۔ سری لنکا کیخلاف میچ جتوانے والے کپتان سرفراز احمد کے دو کیچ چھوٹے اور اگر وہ پکڑے جاتے تو وہیں میچ ختم ہو جانا تھا ۔ ملنگا کی گیند پر مڈ آن پر کھڑے تھیسارا پریرا نے کیچ چھوڑا تو 41 ویں اوور میں متبادل فیلڈر نے ڈیپ سکوئر لیگ کی طرف جاتی اونچی شارٹ پر کیچ ڈراپ کیا ۔ یہ وہ دو اہم مرحلے تھے جب سری لنکا نے میچ کی سب سے بڑی غلطی کی اور وہ میچ ہار گئے ورنہ ہماری بیٹنگ نے اپنی طرف سے پوری ’کوشش‘ کی تھی کہ جیتا ہوا میچ آئی لینڈرز کی گود میں ڈال دیں ۔

Image result for Babar Azam

کیا ہر دفعہ میچ دعائوں پر آس رکھ کر ہی جیتا جائے گا یا کھلاڑی بھی کچھ کریں گے؟ اس وقت ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے ۔ بابر اعظم کی جگہ حارث سہیل کو شامل کیا جائے ۔ پہلے دن سے کہا جا رہا ہے کہ بابر اعظم فارم میں نہیں ، ان کی جگہ کسی اور کو موقع دینا چاہیے لیکن جانے کس چیز کی امید لگائی جا رہی ہے ۔ کیا دبئی کی وکٹوں پر بنے رنز پر ہی انہیں کھلایا جاتا رہے گا ۔ سری لنکا کیخلاف حارث سہیل کو ان کی جگہ موقع دینا چاہیے تھا ۔ بابر اعظم کی وکٹ فوراً گرنے سے ٹیم پریشر میں آجاتی ہے ۔ ون ڈائون کی پوزیشن کسی بھی ٹیم میں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے کیونکہ اوپنر کے آئوٹ دینے پر فوری بیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے جو بابر اعظم نہیں دے پا رہے تو انہیں کب تک سینے سے لگا کر رکھا جائے رکھے گا ۔

Image result for Haris Sohail

ٹیسٹ میچز میں بھی ویسٹ انڈیز کیخلاف وہ مکمل ناکام رہے اور چیمپئنز ٹرافی کے میچز میں بھی وہ ناکام ہی جا رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ وہ وارم اپ میچ میں بھی نہیں چلے تھے ۔ بہتر ہے کہ انہیں فارم کی واپسی تک ٹیم کا حصہ نہ بنایا جائے۔ انگلینڈ کیخلاف سیمی فائنل میں ان کی جگہ حارث سہیل کو کھلایا جانا چاہیے ۔ حارث سہیل کی اگرچہ ٹیم میں دو سال بعد واپسی ہورہی ہے لیکن آئوٹ آف فارم کھلاڑی کو ہی موقع دیئے جانا ہے تو پھر حارث سہیل کو انگلینڈ بھیجنے کا فائدہ کیا ہوا ۔ انجری کا شکار رہنے والے آل رائونڈر حارث سہیل اب مکمل فٹ ہونے کے بعد ٹیم کا حصہ بنے ہیں ۔ تاہم انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں فیڈرل کی ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے اچھی کارکردگی دکھائی ۔ سلیکٹرز نے اگر بابر اعظم کو ان کی سابقہ کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کا حصہ بنایا ہے تو انہیں پرفارم بھی کرنا چاہیے ، وہ نئے ہیں ٹیلنٹڈ ہیں لیکن ابھی فارم میں نہیں ہیں ۔ محمد حفیظ اور شعیب ملک کیا کررہے ہیں؟ چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم کا مڈل آرڈر مکمل طور پر ناکام جا رہا ہے ۔ محمد حفیظ اور شعیب ملک جن پر آسرا تھا اتنی آسانی سے اپنی وکٹ گنوا رہے ہیں کہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے 200 سے زائد میچز کھیل رکھے ہیں ۔ جہاں آرام سے کھیلنے کی ضرورت تھی وہاں یہ دونوں سینئر کھلاڑی غیر ضروری شارٹ کھیلتے ہوئے آسانی سے آئوٹ ہوئے اور جن گیندوں پر وکٹیں گنوائیں وہ کوئی بہت اچھی گیندیں نہیں تھیں ۔
سکواڈ میں ان کے متبادل کھلاڑی ہی نہیں رکھے گئے ظاہر ہے کہ سیمی فائنل میں بھی مجبوراً انہیں ہی کھلانا پڑے گا ورنہ ان کی کارکردگی ایسی نہیں کہ یہ ٹیم کیلئے کوئی بڑی اننگز کھیل سکیں ۔ ٹیم انتظامیہ ان کو اس لئے ترجیح دیتی ہے کہ یہ بیٹنگ کے ساتھ بائولنگ بھی کرلیتے ہیں لیکن بیٹنگ میں مسلسل ناکامی سے ان کی بائولنگ پر بھی پانی پھر جاتا ہے کیونکہ تین وکٹیں گرنے کے بعد پیچھے کوئی بیٹسمین ہی نہیں بچتا اور اگلی وکٹ گرنے پر وکٹ کیپر کی باری آجاتی ہے ۔ اگر سیمی فائنل میں یہ دونوں کھلاڑی کوئی کارکردگی دکھاتے ہیں تو ٹھیک ورنہ چیمپئنز ٹرافی کے بعد ٹیم میں بہت زیادہ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے ۔ محمد حفیظ اور شعیب ملک کی جگہ نئے ٹیلنٹ طلعت محمود ، عثمان صلاح الدین ، زرعی ترقیاتی بینک کی طرف سے کھیلنے والے صاحبزادہ فرحان یا کسی اورڈومیسٹک میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کو موقع دینا چاہیے ۔
اگرچہ ماضی میں محمد حفیظ اور شعیب ملک کئی میچز جتوانے میں کامیاب رہے ہیں لیکن اس ایونٹ میں ان کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے ۔ سیمی فائنل میں پھر بیٹنگ کا امتحان آج کارڈف میں کھیلے جانیوالے سیمی فائنل میں انگلینڈ کیخلاف پھر پاکستانی بیٹنگ ہی کا امتحان ہوگا کیونکہ انگلینڈ کے پاس ناصرف تمام شعبوں میں بہترین کھلاڑی ہیں بلکہ بہترین آل رائونڈرز کا ہونا بھی اس کی اضافی خوبی ہے ۔ میچ کا دارومدار پاکستان کی بیٹنگ پر ہے ورنہ پاکستانی بائولرز کیلئے انگلینڈ کی پوری ٹیم کو آئوٹ کرنا ایک مشکل کام ہوگا ۔ پاکستان کو اس میچ میں چاہیے کہ فہیم اشرف کو اوپر کے نمبروں پر کھلایا جائے ۔ ان کی بیٹنگ سے پاور پلے کے دوران فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔ وہ ایک اچھے بیٹسمین بھی ہیں رہی بات مڈل آرڈر کی تو وہ کونسی پہلے اچھی پرفارم کررہی ہے کہ ان کی پوزیشن میں تبدیلی کرنے سے وہ کوئی تیر مارلیں گے ۔ ہمارے مڈل آرڈربلے بازوں کی نسبت تو بائولر محمد عامر نے سری لنکا کیخلاف اچھی اننگز کھیل لی اور وہ بھی دبائو میں کہ جب ٹیم کنارے پر کھڑی تھی اور انہوں نے انہی بائولرز کا مقابلہ کیا جن سے بابر اعظم ، محمد حفیظ اور شعیب ملک آئوٹ ہوئے ۔
ہمارے بیٹسمینوں کو سری لنکا کیخلاف نجانے کس بات کی جلدی تھی کہ وہ ڈریسنگ روم کی طرف جانے کی جلدی میں لگے ہوئے تھے۔ انگلینڈ کا اہم مہرہ ’’ بین سٹوکس‘‘ ویسے تو سیمی فائنل میں انگلینڈ کا ہر کھلاڑی بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن آل رائونڈر بین سٹوکس ایک اہم مہرہ ثابت ہوگا۔وہ بائولنگ میں مخالف ٹیم کی قیمتی وکٹ گرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ جنوبی افریقہ کیخلاف تین میچز کی سیریز میں بھی ان کی کارکردگی متاثر کن رہی تھی۔انگلینڈکو بیٹنگ لائن میں زبردست ان فارم بلے بازوں جیسن رائے، جوئے روٹ، ایان مورگن، بٹلر، ڈینئیل ہیلز اور پھر معین علی کی مدد حاصل ہے ۔ ہوم گرائونڈ کا ایڈوانٹیج الگ سے ہے ۔ بائولنگ میں ووکس کی کمی محسوس ہوگی لیکن مارک ووڈ نے کمی پوری کردی ہے ۔ اس لئے بائولنگ میں بھی وہ کسی پریشانی کا شکار نہیں ۔ اب پاکستانی بلے باز کس طرح انگلینڈ کے ان فاسٹ بائولرز کا مقابلہ کرتے ہیں یہ ایک کٹھن امتحان ہوگا ۔
صوفیہ گارڈن میدان،سرفراز احمد کیلئے خوش قسمت کارڈف کا صوفیہ گرائونڈ پر پچھلے سال پاکستان نے انگلینڈ کو 303 کا ہدف عبور کرکے شکست دی تھی جس میں سرفراز احمد کے قیمتی 90 رنز شامل تھے۔ اس لحاظ سے یہ گرائونڈ سرفرا ز احمد کے لئے خوش قسمت رہی ہے کہ دونوں میچز (انگلینڈ اور سری لنکا کیخلاف) میں کامیابی انہیں کی بیٹنگ کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ سری لنکا کیخلاف دو کیچز ڈراپ ہونے کے باوجود قسمت ان پر مہربان رہی اور وہ میچ ووننگ 61 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ جبکہ اسی گرائونڈ میں انگلینڈ کیخلاف پاکستان کا ایک جیتا ہوا میچ بارش کی وجہ سے ختم کردیا گیا تھا ۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here