Pakistan News – پوچھ پوچھ کر تھک گئے فلیٹس کا مالک کون ہے :جسٹس اعجاز الاحسن

0
224
SC expected to announce judgment on Panama case on Monday
Tired of asking again and again about real owner of London flats: Justice Azmat
Tired of asking again and again about real owner of London flats: Justice Azmat

شریف خاندان کی منی ٹریل کا جواب آج تک نہیں آٰیا ، پیسہ قطر اور دبئی میں تھا تو لندن کیسے پہنچا :دوران سماعت ریمارکس , شریف خاندان کے وکیل کے دلائل مکمل

اسلام آباد: پاناما کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں کہ فلیٹس کا مالک کون ہے مگر کوئی جواب نہیں دے رہا ، انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کی جانب سے منی ٹریل کا بھی کوئی جواب نہیں آیا ، اگر پیسہ قطر اور سعودی عرب میں موجود تھا تو اس کو لندن کن ذرائع سے بھجوایا گیا اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ، مگر وزیر اعظم نے یہ کیوں کہا تھا کہ ان کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں ۔ بینچ کے سربراہ اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ اس کیس کا فیصلہ ہم نے کرنا ہے یا پھر ٹرائل کورٹ نے ، لیکن اگر شواہد غیر متنازعہ ہوئے تو ہم فیصلہ کرسکتے ہیں ۔

پاناما کے ہنگامے کے فیصلہ کن راؤنڈ کا تیسرا دن ، شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہوگئے ، خواجہ حارث نے کہا جےآئی ٹی کی رپورٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ وزیر اعظم نے اختیارات سے تجاوز کیا ، جسٹس اعجاز افضل نے کہا دیکھنا ہوگا بادی النظرمیں وزیر اعظم کے خلاف کیس بنتا ہے یا نہیں ۔ سپریم کورٹ میں پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہوگئے ۔ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا اگر عدالت نے معاملہ نیب کو بھیجنا ہے تو دیکھنا ہوگا کہ ٹھوس دستاویزات موجود ہیں یا نہیں؟ جےآئی ٹی کی رپورٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ وزیر اعظم نے اختیارات سے تجاوز کیا ۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس میں کہا دیکھنا ہے فیصلہ ہم نےکرنا ہے یا ٹرائل کورٹ نے ، دیکھنا ہوگا بادی النظرمیں وزیر اعظم کے خلاف کیس بنتا ہے یا نہیں ، آپ کو اپنے کارڈ شو کرنا چاہیئے تھے ۔ جسٹس اعجاز افضل نے جے آئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا فلیٹس شریف خاندان کے مشترکہ ہیں ، جےآئی ٹی نے دستاویزنہیں دی تو ذرائع کی کوئی حیثیت نہیں ، اگر حسن ، حسین کسی دوسرے کے نام پر فلیٹ رکھتے تھے تو وہ کون ہے؟ وکیل شریف خاندان نے کہا یہ سوال عدالت جےآئی ٹی سے پوچھے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا حسین نواز نے اپنے بینیفشل مالک ہونےکی دستاویزات نہیں دیں دستاویزات کےمطابق مریم نوازبینی فشل مالک ہیں ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا پوچھ پوچھ کر تھک گئے ، بتاتا کوئی نہیں کہ لندن فلیٹس کا مالک کون ہے ؟ پتا چل جائے کہ مالک کون ہے تو پوچھا جا سکتا ہے کہ پیسہ کہاں سےآیا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا وزیر اعظم نے کیوں کہا کہ تمام دستاویزات موجود ہیں ، فلیٹس کی معلومات چھپانےکے لیے تہہ در تہہ آف شور کمپنیاں بنائی گئیں ۔ خواجہ حارث نے دلائل میں کہا وزیر اعظم نے قانون کے مطابق اپنے اثاثے ظاہر کیے ، ڈکلیئرڈ اثاثوں سے ہٹ کر کوئی اثاثہ تھا تو جےآئی ٹی نے اس پر کوئی سوال نہیں کیا ۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا ہم بے نامی دارکی تعریف جانتے ہیں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے شریف خاندان کے وکیل سے سوال کیا یہ فلیٹس کن ذرائع سے خریدے گئے ، پیسہ قطر ، سعودی عرب میں تھا ، لندن کیسے پہنچا؟ ، شریف خاندان کی منی ٹریل کا جواب آج تک نہیں آیا ۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here