Pakistan News – پنجاب سے لڑکیوں کی بیرون ممالک فروخت کا انکشاف

0
164
HUMAN-TRAFFICKING
Slavery - Human Trafficking

پنجاب سے لڑکیوں کی بیرون ممالک فروخت کا انکشاف 

پنجاب سے لڑکیوں کی بیرون ممالک فروخت کا انکشاف

 

برطرف لیڈی کانسٹیبل اور خواجہ سراؤں پر مشتمل گروہ جھانسہ دیکر لڑکیوں کو پھنساتا، انھیں بدکاری کیلئے مجبور کیا جاتا، نہ ماننے پر لڑکیوں کے چہروں پر تیزاب پھینک دیا جاتا۔

لاہور:  پنجاب کی 31 لڑکیوں کو ہیروئن بنانے کا جھانسہ دیکر فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس میں خواجہ سرا اور برطرف لیڈی پولیس کانسٹیبل پر مشتمل گروہ ملوث ہے۔ فروخت ہونے والی لڑکیوں میں طالبات بھی شامل ہیں۔ اعلیٰ پولیس افسروں نے بیرون ممالک سے ملزموں کی گرفتاری کیلئے ٹیم تشکیل دیدی ہے۔ ذرائع کے مطابق لیڈی کانسٹیبل پروین کو چند سال قبل کرپشن اور مختلف سنگین شکایات پر نوکری سے برطرف کیا گیا تھا۔ لیڈی کانسٹیبل اور اس کے ساتھی پولیس اہلکاروں نے ایک گروہ بنا لیا جس میں خواجہ سرا سنی، مون، ریشم اور فیصل وغیرہ دس افراد شامل تھے۔ اس گروہ کیخلاف سابق انسپکٹر انچارج انویسٹی گیشن دانش رانجھا اور ایس ایچ او سبزہ زار شاہ زیب نے سنگین نوعیت کے مقدمات درج کئے تھے۔ اس گروہ کی نشاندہی پر دیگر ملزموں کو گرفتار کیا گیا تاہم گینگ گرفتاری کے خوف سے لاہور سے راولپنڈی منتقل ہو گیا جہاں انہوں نے اشتہارات سے کئی معصوم طالبات اور لڑکیوں کو بیرون ممالک میں پرکشش نوکری دلانے اور ٹیلی فلموں میں کام کرانے کا جھانسہ دیکر اپنے جال میں پھنسایا اور پانچ لڑکیوں کو دبئی لے گئے اور ہوٹلوں کے مالکان کو فروخت کر دیا۔

روزنامہ دنیا کے مطاب ان لڑکیوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ فرح نامی سیکنڈ ایئر کی طالبہ وہاں سے چند ماہ بعد بھاگ کر واپس آ گئی اور سارا واقعہ سابق ایس ایس پی راولپنڈی کرامت کو بتایا۔ پولیس نے جب گروہ کے ڈیرے پر چھاپہ مارا تو بنگلے پر تالا لگا ہوا تھا۔ پولیس کو بتایا گیا کہ اس گروہ میں چند خواجہ سرا بھی شامل ہیں جن کا تعلق جہلم اور کھاریاں سے ہے جن کیخلاف لڑکیوں پر تیزاب پھینکنے، بلیک میلنگ اور بدکاری و دیگر مقدمات درج ہیں۔

لاہور گلبرگ تھرڈ، راولپنڈی چاندنی چوک اور فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے قریب ان کے دفاتر ہیں۔ یہ گروہ سات برسوں سے طالبات اور لڑکیوں کو بیرون ممالک نوکری دلانے اور فلموں میں کام کرانے کے سبز باغ دکھا کر اپنے چنگل میں پھنسا کر دبئی، فلپائن اور بنکاک میں لاکھوں روپے میں فروخت کر دیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس گروہ کے سیاسی شخصیات کے علاوہ پولیس افسروں سے بھی گہرے مراسم ہیں۔ بعض کیسوں میں پولیس افسروں نے ان کی مدد کی اور ملزموں کو جیلوں سے رہا بھی کرایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے مختلف شہروں لاہور، فیصل آباد، جہلم، راولپنڈی، کھاریاں اور ملتان سے تیس سے زائد لڑکیوں کو بیرون ممالک میں فروخت کیا۔ اب تک کئی لڑکیوں کا سراغ ہی نہیں مل سکا۔ گینگ کا سربراہ ہاشم علی خان بتایا جاتا ہے جو دبئی میں مقیم ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ٹیم ملزموں کے موبائل نمبر ٹریس کر رہی ہے۔ اس گروہ کے مکمل کوائف افسروں کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here